Tasveer-e-Janaan — Kalam-e-Gilani | Syedies



 ہم پیکرِ جاناں کی دل پر تصویر اُتارا کرتے ہیں

فُرقت میں یہ قربت کا عالَم، ہر وقت نظارا کرتے ہیں


دنیائے محبت میں دونوں یُوں وقت گزارا کرتے ہیں

تم ذکر ہمارا کرتے ہو، ہم ذکر تمہارا کرتے ہیں

ہاں، اُن کی طلب میں جب بھی ملے، جو کچھ بھی ملے، سَر آنکھوں پر

دکھ، درد، مصیبت، غم، صدمہ، ہر چیز گوارا کرتے ہیں


اُس دامِ بلا کے حلقوں میں، دل ہے کہ اُلجھتا رہتا ہے

وہ سامنے رکھ کر آئینہ، جب زلف سنوارا کرتے ہیں

فرقت کا مداوا آج نہ کل، بس وعدۂ فردا آئے دن

مرنے کا سبب بن کر گویا، جینے کا اشارا کرتے ہیں


گھنگور گھٹاؤں کا موسم، کوئل کی یہ کُو کُو پیہم

ساون کی چھما چَھم جھڑیوں میں، ہم تم کو پکارا کرتے ہیں

یہ عشق و وفا کی دنیا ہے، ہم عشق و وفا کی دنیا میں

کرتے ہیں بسر انگاروں پر، کانٹوں میں گزارا کرتے ہیں


دِل پر ہی فقط موقوف نہیں، ہر شَے پہ تصرف ہے اُن کا

کونین کا رُخ پھر جاتا ہے، جس دَم وہ اشارا کرتے ہیں


جو ہَم سے خفا، ہم اُن پہ فدا، یہ پِیت کی دیکھی رِیت نئی

ہم اُن کے سبب دیوانے ہیں، جو ہم سے کنارا کرتے ہیں


اُلفت بھی انوکھی بازی ہے، چال اس کی نصؔیر اُلٹی پُلٹی

وہ ہار کے جیتا کرتے ہیں، ہم جیت کے ہارا کرتے ہیں


No comments

close