Classic Urdu Ghazal by Syed Naseer Ud Din Gilani | Tujh Sa Na Tha Koi - Syedies


 تجھ سا نہ تھا کوئی نہ کوئی ہے حسیں کہیں

تو بے مثال ہے تیرا ثانی نہیں کہیں


اپنا جنوں میں مدِّ مقابل نہیں کہیں

دامن کہیں جیب کہیں آستیں کہیں


زاہد کے سامنے جو ہو وہ نازنیں کہیں

دل ہو کہیں حضور کا دنیا و دیں کہیں


اک تیرے آستاں پہ جھکی ہے ہزار بار

ورنہ کہاں جھکی ہے ہماری جبیں کہیں


دل کا لگاؤ دل کی لگی دل لگی نہیں

ایسا نہ ہو کہ دل ہی لٹا دیں ہم ہی کہیں


کیا کہیے کس طرف گئے جلوے بکھیر کے

وہ سامنے تو تھے ابھی میرے یہیں کہیں


گزرے گی اب تو کوچۂ جاناں میں زندگی

رہنا پڑے گا اب ہمیں جا کر وہیں کہیں


دل سے تو ہیں قریب جو آنکھوں سے دور ہیں

موجود آس پاس ہیں وہ بالیقیں کہیں


نظروں کی اور بات ہے دل کی ہے اور بات

باتیں جو میرے دل میں ہیں اب تک نہیں کہیں


اے تازہ واردانِ چمن ہوشیار باش

بجلی چمک رہی ہے چمن کے قریب کہیں



میرا ضمیر اپنی جگہ پر ہے مطمئن

اپنا سمجھ کے ان سے جو باتیں کہیں کہیں


دل نے بہت کہا کہ تمہیں مہرباں کہوں

اس ڈر سے چپ رہا کہ نہ کہہ دو نہیں کہیں


آتے ہی ہم تو کوچۂ جاناں میں لٹ گئے

 !دل کھو گیا نصیر ہمارا یہیں کہیں

No comments

close