The Door of Mercy - Syed Naseer Ud Din Gilani | Syedies

"درِ عطا پہ صدا"



 تو رب کا بندہ ہے، پھر مانگ پھر مانگ

رب تیرا داتا ہے، پھر مانگ پھر مانگ

اس در سے مانگا ہے گلِ انبیا نے

اصحاب و اولادِ خیرالورٰی نے

شاہ و گدا اور سب اولیا نے

تو سوچتا کیا ہے، پھر مانگ پھر مانگ

محدود ہیں گرچہ تیرے وسائل

لا تقنطوا کا اگر ہے تو قائل

مایوس مت بیٹھ، گھبرا نہ سائل

یہ در ہمارا ہے، پھر مانگ پھر مانگ

غیرت بڑی شے ہے اے عبدِ رادَر

در در پہ مت جا، مرے در کا ہو جا

غیروں کے احسان کب تک گوارا

کیوں مجھ کو بھولا ہے، پھر مانگ پھر مانگ

ہر آن دیتی ہے رحمت صدائیں

ہم نے تو کیں غیر پر بھی عطائیں

تو پھر بھی اپنا ہے، دل سے بلائیں

پھر مانگ پھر مانگ


ہیں سب کے سب جن و انسان بندے

وہ میزباں ہے، اُس کے مہمان بندے

کچھ اپنی اوقات پہچان بندے

تو اُس کا منگتا ہے، پھر مانگ پھر مانگ

ہے اُس کی تخلیق ساری خدائی

زیبا اُسی کو ہے حاجت روائی

شایاں اُسی کے ہے مشکل کشائی

وہ سب کو دیتا ہے، پھر مانگ پھر مانگ


دنیائے دوں کا کہاں تک یہ دھندا

کب تک گلے میں یہ لالچ کا پھندا

بن جا بس اپنے ہی مالک کا بندہ

وہ تیرا مولیٰ ہے، پھر مانگ پھر مانگ


جس نے کیا ساری دنیا کو پیدا

ہے ذات جس کی دو عالم میں یکتا

با گریہ و آہ سجدے میں گر جا

وہ سب کی سنتا ہے، پھر مانگ پھر مانگ


لا کہہ کے اب توڑ بتِ ماسوا کے

ایمان بچا اُس کی رمزیں پا کے

"میں تیرا مالک ہوں" سن کر صدا کے

کر اُس سے عرضیاں، پھر مانگ پھر مانگ

اب دیکھتا کیا ہے بندے خدا کے

دینے پہ آیا ہے، پھر مانگ پھر مانگ


دامن کو پھیلا کے بن التجائی

کب تک یہ خاموشی، یہ بے صدائی

کچھ تو نصیرؔ آج کر لب کشائی

خم کم کھڑا کیا ہے، پھر مانگ پھر مانگ

No comments

close