The Turning of Time’s Temperament - Syed Naseer ud din Gilani | Syedies
بساطِ بزم اُلٹ کر کہاں گیا ساقی
فضا خاموش، سبو چپ، اداس پیمانے
نہ اب وہ جلوۂ یوسف نہ مصر کا بازار
نہ اب وہ حسن کے تیور، نہ اب وہ دیوانے
نہ حرفِ حق، نہ وہ منصور کی زباں، نہ وہ دار
نہ کربلا، نہ وہ کٹے سروں کے نذرانے
نہ بایزید، نہ شبلی، نہ اب جنید کوئی
نہ اب وہ سوز، نہ آہیں، نہ ہاؤ ہو خانے
خیال و خواب کی صورت بکھر گیا ماضی
نہ سلسلے، نہ وہ قصے، نہ اب وہ افسانے
نہ قدر داں، نہ کوئی ہم زباں، نہ انسان دوست
فضائے شہر سے بہتر ہیں اب تو ویرانے
بدل گئے ہیں تقاضے مزاجِ وقت کے ساتھ
نہ وہ شراب، نہ ساقی، نہ اب وہ مے خانے
یہ غزل ایک گہری تہذیبی، روحانی اور فکری نوحہ ہے — ایک ایسے عہد کا مرثیہ جو گزر چکا ہے، اور جس کی بازگشت اب صرف یادوں میں باقی ہے۔
شاعر سب سے پہلے “بساطِ بزم” کے اُلٹ جانے کا استعارہ لاتا ہے۔ بزم صرف محفل نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب، ایک فکری دنیا، ایک روحانی نظام کی علامت ہے۔ ساقی، سبو اور پیمانے دراصل اُس سرشاری، اُس وجد اور اُس فکری و روحانی زندگی کے استعارے ہیں جو کبھی معاشرے میں رواں دواں تھی۔ اب فضا خاموش ہے — یعنی زندگی میں نہ جوش باقی ہے نہ شعور کی گرمی۔
“جلوۂ یوسف” اور “مصر کا بازار” حسن اور کشش کے استعارے ہیں، جبکہ “منصور کی زباں” اور “دار” حق گوئی اور قربانی کی علامت ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اب نہ وہ حسن ہے جو دلوں کو مسخر کرے، نہ وہ دیوانے جو سچ کی خاطر دار پر چڑھ جائیں۔ اسی طرح “کربلا” کا ذکر ایثار، استقامت اور حق پر ڈٹے رہنے کی عظیم روایت کی یاد دلاتا ہے — جو اب ناپید ہوتی محسوس ہوتی ہے۔
بایزید، شبلی اور جنید جیسے صوفیائے کرام کے نام روحانیت، سوز و گداز اور باطنی کیفیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شاعر کو شکوہ ہے کہ اب نہ وہ آہیں ہیں، نہ وہ ہاؤ ہو کی صدائیں — یعنی نہ وہ عشقِ حقیقی کی تڑپ باقی رہی، نہ باطن کی آگ۔
آخری اشعار میں ماضی کے بکھرنے اور قصوں کے مٹ جانے کا ذکر ہے۔ نہ قدردان رہے، نہ ہم زبان، نہ انسان دوست۔ شہر کی فضا ایسی بے روح ہو چکی ہے کہ ویرانے اس سے بہتر معلوم ہوتے ہیں۔ وقت کے مزاج نے سب کچھ بدل دیا — نہ وہ شراب رہی، نہ ساقی، نہ مے خانے۔
مجموعی طور پر یہ غزل زوالِ اقدار، روحانی انحطاط اور تہذیبی و فکری تنزلی کا نوحہ ہے۔ اس میں ماضی کی عظمت کا درد بھی ہے اور حال کی ویرانی کا کرب بھی۔ شاعر صرف ایک محفل کے بکھرنے کا ذکر نہیں کرتا بلکہ ایک پورے عہد کے خاتمے پر ماتم کرتا نظر آتا ہے۔
No comments