After Every Darkness, There Is Dawn
🌙 غزل
عنوان: روشنی کا سفر
دل کی تنہائی میں اک شور سا رہتا ہے
جیسے خاموش دعاوں کا اثر رہتا ہے
ہم نے مانا کہ زمانہ بھی مخالف نکلا
پھر بھی سینے میں کوئی حوصلہ رہتا ہے
رات جتنی بھی ہو گہری تو گزر جاتی ہے
ہر اندھیرے کے عقب میں سحر رہتا ہے
جو بھی ٹوٹا ہے وہ پہلے سے نکھر آیا ہے
درد انسان کو کچھ اور مگر رہتا ہے
ہم نے ٹھوکر کو بھی قسمت کا اشارہ سمجھا
یوں ہی ہر موڑ پہ اک نیا سفر رہتا ہے
تیری رحمت کا سہارا ہو اگر دل کو نصیب
پھر کہاں خوفِ زمانہ کا خطر رہتا ہے
آخرِ شب یہی پیغام ملا ہے دل کو
جس نے رب کو نہ چھوڑا وہ امر رہتا ہے

No comments