When Love Refuses to Die – Emotional Sufi Ghazal by Peer Naseer Ud Din Gilani

🌙 غزل



عنوان: صداۓ درد


دل کے صحرا میں کوئی پھول کھلا ہی نہ کبھی

تیری یادوں کا مگر درد مٹا ہی نہ کبھی

رات آنکھوں میں اُتری تو یہ احساس ہوا

کوئی اپنا تھا جو دل سے گیا ہی نہ کبھی


ہم نے چاہا کہ بھلا دیں تری صورت لیکن

یہ وہ نقش ہے جو دل سے مٹا ہی نہ کبھی

تیری چوکھٹ پہ جھکے اشک تو یہ راز کھلا

سر جھکانے سے کوئی شخص گھٹا ہی نہ کبھی


غم کی بارش نے ہمیں اور نکھارا ہے بہت

دل کا آئینہ مصیبت سے کٹا ہی نہ کبھی

ہم نے دنیا کے تقاضوں کو نبھایا لیکن

دل نے سچ چھوڑ کے رستہ چنا ہی نہ کبھی


آخرِ شب یہی اک بات سمجھ میں آئی

عشق سچا ہو تو پھر ختم ہوا ہی نہ کبھی 

No comments

close