Echoes of a Broken Heart - Syed Naseer Ud Din Gilani | Syedies



 🌙 غزل


دل کی ویران گلیوں میں صدا کوئی نہیں

تیری یادوں کے سوا اب تو خدا کوئی نہیں

رات آنکھوں میں کٹی اشک بہاتے بہاتے

میرے دکھ کا مرے مولا کے سوا کوئی نہیں


ہم نے مانا کہ زمانہ بھی مخالف نکلا

دل کو بہلانے کو اب دل کے سوا کوئی نہیں

تیرے در سے جو اٹھے پھر وہ سنبھلتے ہی نہیں

اس محبت کا یہاں کوئی صلہ کوئی نہیں


زخم ایسے ہیں کہ بھرنے کا گماں بھی نہ رہا

وقت مرہم ہے مگر ایسا دوا کوئی نہیں

ہم نے دنیا کی ہر اک شے کو پرکھ کر دیکھا

تیری رحمت کے مقابل تو عطا کوئی نہیں


دل کو رکھتا ہے سکوں تیرے تصور سے فقط

اس قدر پیار بھرا اور ہوا کوئی نہیں

اپنی ہستی کو مٹا کر بھی یہ جانا ہم نے

تیری چوکھٹ سے بڑا اور نشاں کوئی نہیں

No comments

close